16 جون 2026 - 17:16
جوزف عون نئے ریاستی ماڈل کی تلاش میں؛ کیا تہران کے ذریعے کشیدگی میں کمی ممکن ہے؟

لبنان کے صدر جوزف عون ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جس میں غیر ریاستی ہتھیاروں کے ساتھ براہِ راست تصادم کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمرانی، داخلی توازن اور سفارتی روابط کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق تہران کے ساتھ سرکاری سطح پر رابطوں کا آغاز لبنان میں ریاستی کردار کو مضبوط بنانے اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں قومی خودمختاری کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کو درپیش علاقائی کشیدگیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان جوزف عون اپنی اس حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایک مضبوط، خودمختار اور مؤثر لبنانی ریاست کا قیام ہے۔

سیاسی تجزیوں کے مطابق صدر عون تہران کے ساتھ براہِ راست سفارتی رابطوں کے قیام کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ کے دائرے سے باہر نئے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے طرزِ عمل میں ایران کے ساتھ روابط کو ریاستی اداروں کے ذریعے آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے، نہ کہ صرف حزب اللہ کے ذریعے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران سے متعلق فائل کو دوبارہ سرکاری اور ریاستی اداروں کے دائرہ کار میں لانا ہے۔ اگر یہ حکمتِ عملی کامیاب ہوتی ہے تو اسے ایک ایسے اعترافِ حقیقت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو تسلیم کیا جائے، لیکن مکمل انحصار یا تمام تر ثالثی کا کردار حزب اللہ کے حوالے نہ کیا جائے۔

تجزیے کے مطابق جوزف عون نہ تو مزاحمتی ہتھیاروں کو مستقل قانونی حیثیت دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ اسرائیل کو اسلحہ چھوڑنے کے بدلے کوئی سیاسی انعام دینا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسرائیلی جارحیت کا تسلسل صرف حزب اللہ ہی نہیں بلکہ خود لبنانی ریاست کو بھی کمزور کرتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب ریاست اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع میں ناکام دکھائی دے۔

اسی تناظر میں صدر عون اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ داخلی اتحاد اور طاقت کے توازن کے بغیر ہونے والے مذاکرات لبنان کے قومی فیصلوں پر بیرونی سرپرستی اور دباؤ کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق عون کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا وہ اس اسٹریٹجک تبدیلی کو ایک جامع قومی پالیسی میں تبدیل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ایسی پالیسی جو پہلے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کو یقینی بنائے اور اس کے بعد ریاست کی سرپرستی میں ایک مشترکہ قومی دفاعی حکمتِ عملی تشکیل دے سکے۔

اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے استحکام اور خودمختاری کی بحالی کے لیے داخلی سیاسی توازن، قومی مفاہمت اور بین الاقوامی حالات کا درست ادراک ناگزیر ہے۔ صدر عون کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ واشنگٹن کے مطالبات، داخلی سیاسی حقائق اور قومی سلامتی کی ضروریات کے درمیان کس حد تک متوازن راستہ اختیار کر پاتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha